RSS Feed

نجم الدّین اے شیخ کے تازہ کالم”پاکستان افغانستان میں کیا چاہتا ہے” کا تنقیدی جایزہ۔

 

جب ھم پاکستان کی تاریخ پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ھمیں ایک ایسی مخصوص استبدادی انداز فکرکا پتہ چلتا ہے جسکی ھمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ حکومتی بھاگ دوڈ کو عوام کی پہنچ سے ھر ممکن دور رکھیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس مخصوص گروہ کی عیاری مزید قوتّ پکڑتی گیی اور اسطرح عوام اورمعاشرے کے بڑے اسٹیک ھولڈرز کواپنے مفادات کے لیّے نہ صرف استعمال کیا گیا بلکہ انکو امور مملکت سے بھی دور رکھا گیا۔ مثّلا، آزادی کے صرف چند سال بعد ھی باباے قوم محمد علی جناح (رح) ھم سے جدا ھو جاتے ھیں جو بظاھر انکی خرابی صحت کی وجہ سے تھی مگراسکے برعکس بااعتماد ذرایع کا مانا ہیں کہ باباے قوم کو جان بوجھ کر زیارت جیسی ٹھنڈی جگہ پر بھیجا گیا تاکہ اسکی صحت تیزی سے خراب ھو جو بلآخر انکی طبعیی موت پر منتتج ھوی۔  اسکے علاوہ، پاکستان کے پہلے وزیراعظم اور تحریک آزادی کے سرکردہ بانیوں میں سے ایک، لیاقت علی خان کا قتل آج تک ایک معمہّ ہی رہا جو اب ھمیشہ کےلیے سرد خانہ کی نظر ھو گیی ہے۔

بدقسمتی سے اس ملک کے خلاف ھمیشہ سے سازشیں بنتی گیی اور انکو عملی جامہ بھی پہنایا گیا مگر آج تک کسی نے انکو جاننے کی اور اصل مجرموں کو بے نقاب کرنے کی جسارت نہیں کی۔ 1971 کے سقوط ڈھاکہ، بھٹوّ خاندان کا قتل، تہرا نظام تعلیم یعنی اردو، انگلش اور مدرسہ سسٹم، نواب اکبر بگٹی کا پراسرار قتل اور ھزارہ قوم کی قتل عام کچھ ایسے بڑے مسلے ھیں کہ جنکی کبھی مکمل تحقیقات نہیں ھوی تاکہ اصل مجرموں تک پہنچا جا سکیں۔

ایک ایسا مخصوص طبقہ جنکی وفاداریاں انتہاپسندوں کے ساتھ ھیں، ھمیشہ سے فیصلہ سازی اور شراکت اقتدار میں مرکزی کردار رکھتے ھیں جو اصل ملکی پالیسی سے روگردانی کرتے ھیں۔ ان میں سے بہت سے خفیہ ایجنسیوں کے پے رول پر ھوتے ھیں جو خارجی طاقتوں کے کام سرانجام دیتے نظر آتے ھیں اور اس فہرست کی تیاری میں بہت احتیاط سے کام لیا گیا ہے تاکہ ایسے لوگوں کو شامل کیا جا سکیں جونسل اور عقیدہ کی بنیاد پر نفرت پھیلاتے ھیں۔ ان خودغرض اور نفرت انگیزعناصر نے پورے پاکستانی معاشرے کو یرغمال بنارکھا ھیں جو اپنے بیرونی آقاوں کی ایما پر کام کرتے نظر آتے ھیں۔

اس مضمون کے عنوان کے تسلّسل میں، مجھے بھی ایک ایسا کالم پڑھنے کا اتفاق ھوا جو پاکستان کے سابق سفیر اور فارن سیکرٹری، نجم الدّین اے شیخ نے لکھا ہے جسمیں اسنے تاریخی حقایق کو توڈ مروڈ کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسکا حالیہ مضمون “پاکستان افغانستان میں کیا چاہتا ہے؟”  27 دسمبر 2011 کو پاکستان کے ایک روزنامہ، دی ٹریبون میں شایع ھوا تھا جسمیں موصوف نے افغانستان کے معاشرتی ساخت اور لسانی چپقلشیوں سے متعلقّ حالات کا جانبداری سے ذکر کیا ہے۔

مجھے یہ سوچ کر کافی حیرانی ھوتی ہے کہ کیوںکر کوي شخص غیر مصدّقہ اور نفرت انگیز چیز اپنی تحریر میں لاتا ہے جو صرف اور صرف اسی کو نقصان پہنچاتی ھے۔ اسکے علاوہ، انہوں ںے اپنی دانشورانہ اور مدبرانہ حیثّت کوپامال کرتے ھوۓ، دانستہ طور پر اپنے قاریین کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے۔ تاھم ملک کے اشرافیہ طبقہ کی ایک بڑی تعداد خفیہ ایجنسیوں کے باقاعدہ تنخواہ دار ھوتے ھیں یا انکے ساتھ نزدیکی رابطوں کے باعث روز مرّہ کے امورباھمی اشتراک سے انجام دیتے نظر آتے ھیں جنکی جھلک مختلف رسایل، روزناموں، جریدوں اور بین القوامی اخباروں میں شایع ھوے انکے مضامین ھوتے ھیں جنکی وجہ سے بہت سے قاریین ان کالم نگاروں، لکھاریوں اور مصّنفین کی بلند پایہ سیاسی، سماجی اور اخلاقی قدوقامت سے دھوکہ کھا جاتے ھیں۔

اس ضمن میں موصوف نجم الدّین اے شیخ نے افغان معاشرے سے متعلقّ تاریخی حقایق کو غلط پیش کرنے میں کوي کسر نہیں چھوڈی۔ مثال کے طور پر، اپنے مضمون کے دوسرے پیراۓ میں لکھتے ھیں کہ ” 1992 میں ھم نے کوشش کی کہ مجاھدین کے تمام دھڑوں کو  انتخابات سے پہلے شراکت اقتدارکے فارمولے پر متفقّ کر سکیں جو بارآور نہ ھو سکی اسکی ایک وجہ مجاھدین کے ذاتی مفادات تھےاس لیے  مکمل نسلی توازن نہیں بنایا جا سکا اور دوسری وجہ ایرانیوں کا یہ اصرار تھا کہ ٪30 نشستیں اہل تشّیع کو ملنی چاہیے جبکہ افغانستان میں ھزارہ قوم کی بڑی تعداد شیعہ ھیں، جو افغانستان کی کل آبادی کا ٪8 ہے۔ اسکے علاوہ، ھمارا حمایت یافتہ حکمتیار نے بھی رباّنی کی تاجک جماعت اسلامی میں کوي بھی مرکزی کردار عارضی طور پر بھی قبول کرنے سے انکار کیا”۔

یہاں یہ بتانا دلچسپ امر ہے کہ موصوف 1992- 1994 تک ایران میں پاکستان کے سفیر کے طور پر اپنے فرايض سرانجام دے چکے ھیں اور اوپر بتاے گیے پیراگراف میں لفظ “ھم” کا ذکرمبہم انداز میں کیا گیا ہے جو مزید وضاحت کا متقاضی ہے تاکہ اسکا اصل مفہوم  معلوم ھو سکے۔ مزید، انہوں نے کہا ہے کہ مجاھدین کے اپنے مفادات اور ایرانیوں کے ضد کی وجہ سے کوي بھی حتمی فیصلہ نہیں ھو سکا جسمیں انہوں نے ایران سے منسوب یہ بات کہی ہے کہ شراکت اقتدار سے متعلّق فارمولے کی رو سے ٪30 نشتیں شیعہ آبادی جنمیں ھزارہ قوم کی کی مغلوب تعداد ھیں کو ملنی چاہییں۔

موصوف نے بڑے ماہرانہ انداز میں اپنے قاریین کو افغانستان میں آباد ھزارہ قوم سے متعلقّ غلط تاثرّ دینے کی کوشش کی ہے لیکن ھزارہ قوم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ایرانی اہلکاروں نے کبھی بھی ان کی مالی یا کسی اور طریقے سے مدد نہیں کی ہیں حتی کہ شدید خطرات میں بھی جب طالبان مزارشریف، یکاولنگ اور بامیان میں انکی (ھزارہ قوم) کی نسل کشی کر رہا تھا، تب بھی ایران کوي بھی کردار ادا کرنے سے قاصر رہا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کبھی ایران ان کے لیۓ کوي دلیری سے بات کریں؟ بہت قوی ثبوت موجود ھیں جن سے معلوم ھوتا ہیں کہ ایران نے ھمیشہ ان قوتوں کی مدد کی ھیں جو ھزارہ قوم کے خلاف لڑتی آي ھیں انمیں تاجک پیش پیش ھیں۔ اسی طرح، ھزارہ قوم کے خلاف برسرپیکار دھڑے جیسے شیخ آصف محسنی جو نسلاّ پشتون شیعہ ملاّ اور ایران نواز ہے اور محمد اکبری جو ھمیشہ ھزارہ قوم کی نمایندہ سیاسی تنظیم، حزب وحدت اسلامی افغانستان جسکا قاید عبدل علی مزاری تھا، کے خلاف ایرانی نواز ایجنٹوں نے ھر ممکن طاقت استعمال کیں۔ انکے علاوہ، ایران نے اس زمانہ میں آٹھ ایران نواز سیاسی تحریکوں کومالی، سیاسی اور اخلاقی مدد کیں جو حزب وحدت اسلامی افغانستان کے حریف تھیں اور جنکا بنیادی کام حزب وحدت اسلامی کے خلاف جنگ کر کے اسکو کمزور کرنا تھا۔

یہاں اس امر کی وضاحت لازمی ہے کہ کویٹہ اور کراچی میں ھزارہ قوم کی تعداد بلترتیب 7 لاکھ اور 3 لاکھ ھیں آبادی کا یہ تناسب ان سب کے علاوہ ہے جو ھزارہ قوم دوسری جگہوں میں آباد ھیں۔ پاکستان میں آباد ھزارہ قوم کی شرح خواندگی اس کی آبادی کے لحاظ سے سب سے زیادہ ھے جنکے ٪ 90 لوگ پڑھے لکھے   ھیں۔  موصوف نے پاکستانی ھزارہ کی اس ملک کے لیے دی گیی بڑی قربانیوں کو مکمل نظرانداز کیا ہے جنہوں نے ھمیشہ اس کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا۔ مثلاّ، جنرل محمد موسی خان (پاک آرمی کے سابقہ کمانڈرانچیف اور 1965 اور 1971 کے جنگوں کے ھیرو)، اییر مارشل (ریٹایرڈ) شربت علی چنگیزی، پاکستانی خاتون پایلٹ سایرہ بتول اور اولمپکس میں تین مرتبہ پاکستان کی نمایندگی کرنے والے باکسر ابرار حسین ھزارہ  اس قوم کے کچھ ایسے سپوت ھیں جن کی خدمات وفاق پاکستان کے لیے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ان کے علاوہ، ھزارہ قوم کے اور بھی ھونہار اور باصلاحیتّ نوجوان ھیں جو اپنی محنت اور لگن سے پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اھم کردار ادا کر رہے ھیں مگر کالم نگار نے ان سب خدمات کو ایک طرف رکھتے ھوے اپنے آقاوں کی آشیرباد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس کوشش میں، موصوف کے نسلی تعصبّ نے اسکے مدبرّانہ حصےّ کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لیۓ رکھا ہے تاکہ ھزارہ قوم کی آبادی کو صرف ٪8 تک ظاھر کرنے میں سعی کرے۔ مجھے مکمل یقین ہے کہ شیخ صاحب نے اپنے بال دھوپ میں سفید نہیں کیے ھونگے کہ اس قدر سچاي سے روگردانی کرے۔ میں یہ بھی مناسب سمجھتا ھوں کہ اس کی توجہّ بون معاھدہ کی طرف مبذول کراوں جسمیں ھزارہ قوم کی آبادی کو ٪19-20 بتاي گیی ہے درکنار اس کے کہ ھزارہ قوم کا اصرار ہیں کہ اس کی آبادی ٪25-30 تک ہے۔ اس جنگ زدہ اور مفلوک الحال ملک میں ثور انقلاب سے ابتک کوی مردم شماری نہیں کی گیی لحاظہ افغانستان میں آباد مختلف قومیتوں کا صحیح تناسب جاننے کےلیے کوي عالمگیرپیمانہ نہیں ہے کہ اصل تعداد کا علم ھو سکے۔ لہذا یہ باور کرنا کافی مشکل ہے کہ موصوف کالم نگار اور سابق سفیر کو افغانستان میں آباد مختلف قومیتوں کے بارے میں معلوم نہ ھوں۔

ھماری سالوں کی مسلسل غلط پالیسوں نے افغانستان کو نسلی رقابتوں، استحصال اور ظلم و زیاتیوں کی آماجگاہ بنا دیا ہے جن سے افغانیوں کی ھمدردیاں ھم سے دور ھوتی گیی اور آج وہ مسلم اّمہ، بھاي چارے کی فضا اور اسلامی عالمگیریت جیسے فلسفہ سے نفرت کرتے نظر آتے ھیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے مخصوص طرز فکر نے ان میں اس حد تک لسانی منافرت، نسلی تعصبّ اور گروھی عدم تناسب  کو ھوا دی ہے کہ جس سے ایک عام پاکستانی کی عزتّ نفس اور جذبہ حب الوطنی کو بڑا نقصان پہنچا ہے۔

یہ ھمارے لیۓ انتہای ضروری ہے کہ دانشورحضرات ، لکھاری، درس وتدریس سے وابستہ افراد اور سیاستدان سب اپنی ترجیحات کوپاکستان کے قومی مفادات سے منسلک کریں تاکہ اس ملک کی اسٹریٹجک اھمیت کو ازسرنوجلا بخش سکیں۔ 

Advertisements

2 responses »

  1. umar abdul rehman

    dear Liaqat Ali, i pray that muslims in general and we Pakistanis in particular get rid of these puppet establishments which have only weakened the country and sown the seeds of hatred among different communities. Saudi efforts to export their ideology has not progressed ahead of bloodshed in our country but it continuously plagues our society. in that the best is that we keep unveiling the truth so that we are all aware of happening and other exploiters which you mentioned. may we all some day stand up against all exploiters and allow the true liberty and humanity to prosper and guide us

    Reply
    • Very True, Indeed and thanks for your input.

      The New, Prosperous and Educated Pakistan is not a mere dream but a reality especially when the youth who age between 18-25 account for over 65% population of the country.

      They can become the harbinger of socio-political change mainly because the lower middle class and the middle class strata of the society find abundant opportunities to hold the reign in their hands.

      Reply

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: