RSS Feed

برطانیہ میں سیاسی ادارہ ھزارہ یونایٹیڈ موومنٹ (ھم) کا قیام

ھزارہ یونایٹیڈ موومنٹ کے منتخب کابینہ کے ارکان و ممبران

ھزارہ یونایٹیڈ موومنٹ کے منتخب کابینہ کے ارکان و ممبران

ھزارہ قوم کی سیاسی امنگوں اور ضرورتوں کے پیش نظر جنوبی اور وسطی ایشیاء کی تیزی سے بدلتی حالات کو مدنظر رکھتے ھوۓ برطانیہ میں آباد ھزارہ تارکین وطن کی کوششوں سے ھزارہ یونایٹیڈ موومنٹ (ھم) کے نام سے ایک سیاسی ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں برطانیہ کے مختلف علاقوں سے ھزارہ نوجوانوں کا ایک اھم اجلاس لندن کے مرکز میں واقع سٹی ٹیمپل کے ھال میں 27 فروری 2012 کوھوا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ذاکر رستمی نے انجام دیا۔

پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ھوا جس کے بعد سٹیج سیکرٹری نے اجلاس میں موجود تمام اراکین اور ممبروں کو خوش آمدید کہا اور پروگرام کے متن کے بارے میں ذکر کرتے ھوئے کہا کہ آج کے اس ت‍قریب کو تین حصوّں میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں سب سے پہلے تین مقررّین جو کہ لیاقت علی ھزارہ، عیوض علی واحدی اور کرینہ کروفرڈ خطاب کرینگے، اس کے بعد سوالات و جوابات کا سیشن ھو گا اور آخر میں مختلف عہدوں کے لیے انتخابات ھونگے۔

ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد، اغراض و مقاصد اور ممبرسازی کے فوائد پر روشنی ڈالنے کیلیے پہلے لیاقت علی ھزارہ کو مدعو کیا گیا۔

لیاقت علی ھزارہ نے شرکت کرنے والوں کو خوش آمدید کہتے ھوۓ ادارہ کے بنیادی مقاصد بیان کرتے ھوئے کہا کہ اس سیاسی ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد سیاسی مرکزّیت کی جانب سنجیدہ کوشش کرنا ہے تاکہ ھزارہ قوم میں سیاسی عالمگیریت کا احساس بیدار ھوسکے۔ اسی نقطہ کی وضاحت کرتے ھوئے انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے برطانوی الیکشن کمیشن کے ساتھ ایک سیاسی ادارے کی حیثیتّ سے رجسڑ کرنے کے لیے تمام قانونی تقاضے پہلے ھی پورے کیے جا چکے ھیں اور انشاءالللّہ آئندہ چند مہینوں میں اس کا رجسٹریشن مکمل ھو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ھزارہ قوم کی تاریخ میں پہلا موقع ھوگا جب پاکستان اور افغانستان سے باھر کسی ھزارہ سیاسی ادارے کی الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹریشن ھوگی جو برطانیہ جیسے ملک میں آئندہ عام انتخابات میں حصہّ لے سکے گا اور جسکا نام (ھزارہ یونایٹیڈ موومنٹ) ھر انتخابات میں بیلٹ پیپرز پر شائع ھونگے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مرکزّیت کے ارادے کو پورا کرنے کے لیے پاکستان، افغانستان، آسٹریلیا اور دوسرے یورپی ممالک میں (ھم) کا دفتر کھولا جائے گا اور انکی بھی متعلقہّ الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹریشن ھوگی تاکہ ھزارہ قوم کے سیاسی افکار اور سرگرمیوں کو ایک ادارے کے تحت مربوط انداز میں چلایا جا سکے۔ اس سلسلے میں مختلف نمائندوں اور سیاسی بصیرت رکھنے والے ھزارہ قوم دوست عناصر سے بات چیت جاری ھیں جسکا جلد ھی مثبت نتیجہ سامنے آئے گا۔

انہوں نے ادارے کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ھوۓ کہا کہ:

 ۔ برطانیہ میں آباد ھزارہ تارکین وطن کو بحیثیتّ کمیونٹی شناخت کروانا
۔ انکو ھر سطح پرنمایندگی کے صاف و شفاف مواقع مہیاّ کرنا
۔ برطانیہ میں عملی سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے شعور پیدا کرتے ھوۓ مواقع مہیاّ کرنا
۔ مربوط سرگرمیوں کے تحت عالمگیر ھزارہ ازّم کو فروغ دینے کے لیے شعور بیدار کرنا

انہوں نے اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ ھزارہ قوم کے جوانوں کو جدید خطوط پر سیاسی تربیت دینے کے لیے لیڈرشپ اور کمیونٹی آرگنائزیشن کے حوالے سے تربیتی پرگراموں کا بھی انعقاد کیا جائے گا تاکہ ھماری آئندہ نسل عملی سیاست میں فعال کردار ادا کر سکیں۔ اسکے ساتھ ساتھ سٹیڈی گروپس اور ریسرچ اینڈ اینلیسز (تحقیق و تحلیل) کے شعبے قائم کے گیے ھیں تا کہ حالات و واقعات کو سائنسی بنیادوں پر جانچتے ھوئے موثرمنصوبے بنائے جا سکیں۔

اسکے بعد عیوض علی واحدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ھماری نسل کو سیاست میں دلچسپی لیتے ھوۓ قوم کی بھاگ دوڑ سنبھالنے کے لئے آگے آنا ھوگا تاکہ ھم جنوبی اور وسطی ایشیاء میں کسی سے پیھچے نہ رہے۔ آج آپ جو بھی فیصلہ کروں گے وہ آنے والے کل پر اثر انداز ھوگا۔ آپ کو چاہیے کہ اس ننھیّ سی کلی کی حفاظت گملے میں لگے کسی پودے کی طرح کریں تاکہ اس ادارے کے زریعے لوگوں کے سیاسی، سماجی، تعلیمی اور ثقافتی مسائل کا ادراک ھو نے کے ساتھ ساتھ ان کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھایا جا سکیں۔ یہاں برطانیہ میں ھزارہ تارکین وطن کے بہت سے مسائل ہیں جن میں ھماری شناخت بحیثّت دیگر کمیونٹیز کے ایک چلینج سے کم نہیں۔ ھمارے لڑکوں کے امیگریشن کے مسائل ہیں جن میں بہت سے ایسے ہیں کہ جنکے کیس ھوم آفس سے رد ھوچکے ہیں، بہت سے دیگر عرصے سے جواب کے انتظار میں ہیں۔ انکی تعداد شاید ھزاروں میں ھوں جنکو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ جائے تو کہا جائے۔ پاکستان اور افغانستان کے معروضی حالات کو مدنظرّ رکھتے ھوئے واپس جانا کافی مشکل ہے مگر یہاں بھی غیر قانونی طور پر نہیں رہا جا سکتا۔ بہت سے مسائل میں سے میں نے صرف ایک دو کی بات کی ہے مگر مجھے معلوم ہیں کہ انکو اس ادارے کے توسطّ سے حل کرنے کے لیے کافی مواقع موجود ہیں اور میری لیاقت علی ھزارہ سے گفتگو میں یہ باتیں کافی تفصیل سے زیر بحث رہی ھیں جنمیں انہوں نے انکے ٹھوس حل کے لیے مدللّ نمونے پیش کیے ہیں جو بلاشبہ قابل عمل ہیں۔ یہ اور دوسرے مسائل کا حل آپ بخوبی اس ادارے کے زریعے کر سکتے ہیں لہذا کوئی وجہ نہیں کہ آپ اسے مضبوط بنانے میں شانہ بہ شانہ کام نہ کریں۔

بعد میں کرینہ کروفرڈ نے حاضرین مجلس سے خطاب کیا۔ کرینہ کا تعلقّ برطانیہ کے ایک بڑے اور منظمّ خیراتی ادارے (سیٹزنز یو کے) سے ہیں جس میں 230 سے ذائد چھوٹے بڑے ادارے، سکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور دیگر ادارے بحیثتّ ممبر منسلک ہیں۔ کرینہ وہاں پر کمیونٹی آرگنائزر کی حیثّت سے گزشتہ کئی سالوں سے کام کررہی ہیں مگر اب انہوں نے ھزارہ یونایٹیڈ موومنٹ کی ممبر کی حیثّت سے ھزارہ قوم کے ساتھ بھی کام کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اپنی مختصر سی تقریر میں قوت اور اسکے استعمال پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ کیسے آپ لوگ (ھم) کے پلیٹ فارم سے یکجہتی اور اتحاّد کا مظاھرہ کرتے ھوۓ اپنے مسائل کے حل کے لیے موثر آواز اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں ھمیشہ آپ لوگوں کے ساتھ کام کروں گی اور سیٹیزنز یوکے اور ھم ملکر آیندہ کے پروجکیٹس اکھٹےّ چلاے گے جن کے لیے میں پہلے ہی لیاقت علی ھزارہ سے بات کر رہی ھوں۔ کرنیہ نے کہا کہ کوئی بھی کام بجٹ کے بغیر ممکن نہیں اور آپ لوگوں کو چاہئیں کہ ماہانہ ممبرشپ فیس سے اپنے ادارہ کے اخراجات کو پورے کریں تاکہ آپکی ترقیّ کا عمل متاثر نہ ھوں۔

پہلے سیشن کے اختتام پر ذاکر رستمی نے سب مقررین کا شکریہ ادا کرتے ھوئے محمدّ رضا کو سوال و جواب کے مرحلے کو آگے بڑھانے کے لیے کہا جسمیں حال میں موجود حاضرین نے مقررین سے سوالات کیے جو سب کی تسلیّ سے آدھا گھنٹہ میں اختتام پذیر ھوا۔

آخر میں باقاعدہ انتخابات کا انعقاد ھوا جس میں مندرجہ ذیل ممبروں کا اتفا‍ق رائے کیساتھ انتخاب عمل میں آیا۔

لیاقت علی ھزارہ – چیرمین
محمد عزیز – سیکرٹری جنرل
کرینہ کروفرڈ – امبیسیڈر (سفیر)
ذاکر رستمی – سیکرٹری خزانہ
عبداللہ گلزاری – کوآرڈینیٹر برائے ساوتھ کروایڈن (عیو‌ض علی واحدی صاحب نے عبداللہ گلزاری کے ساتھ کوآرڈینیٹر کی ذمہ داریوں میں رضاکارانہ طور پر ساتھ دینے کا اعلان کیا)
علی اصغر – کوآرڈینیٹر برائے وولیچ

تقریب کا انعقاد بروز سوموار ہونے کی بناء پر دوسرے علاقوں کے بہت سے ممبران اپنے روزمرہّ کے کام سے رخصت نہ ملنے کی وجہ سے حاضرنہ ہوسکے جنکی تقرری باھمی صلاح و مشورے سے آئندہ ھفتے کی میٹنگ میں طے پاجانا مقصود ٹھرا۔

آخرمیں ذاکر رستمی نے تقریب کے شرکاء کا شکریہ ادا کر تے ھوۓ انہیں اگلے ھفتے کی میٹنگ میں شرکت کرنے کی تلقین کی۔

شبعہ نشر و اشاعت۔

ھزارہ یونا ئٹیڈ موومنٹ۔

منبع

Advertisements

2 responses »

  1. Abbas Rostame

    Biradiraee Gull e khabur ra sheneda khaly khosh shudum.
    Baldy payshrafti qoam ya balday subaee oele qoom yago raa jor kado khayli khob kar asta lakin yag chez ra oshron shum dawor she basha ke yag kar ra shoro kado aso ya lakin paysh burdon she khayli giro asta lakin baz am omed munum ke shamo ami kar ra ke shora kadayn da sar bayrsa aze kalo tora gufta na maytanum chara ke tataysa az awaly shum kalo malumad na darom

    omed munum ke al awal muned wa ma am az shamo awalgir mushum

    A. ROstame

    Reply
    • برادر عزیزم عباس رستمی

      خیلی خوشحال شدم کی جوانان مردم ھزارہ بیدار استہ۔ مو، انشاءالللّہ کوشش مونی کی ھزارہ یونایٹیڈ موومنٹ را براہ آیندہ ھزارہ، یک درخت بآور و باثمر جور کنیم کی از میوہ شی تمام ھزارہ سیر شونہ۔
      مو شمو را و دیگہ رفیقا را بیسار خوش آمدید موگیم و از شمو ھمکاری تقاضا مونیم

      Reply

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: