RSS Feed

صورت خان مری کے جواب میں

ہینریچ ہین نے کہا ہے کہ دنیا میں عام آدمی سے بیوقوف لوگوں کی تعداد کہی زیادہ ہیں اور یہ مقولہ آج کے پڑھے لکھے مگر جاہل لوگوں پر صادق آتی ہے جو بنا کسی تحقیق اور سائنسی جستجو کے، اپنی آنکھوں پر تعّصب اور نسلی نفرت کا عینک لگا کراعلیٰ انسانی اق…دار کی سطح سے نیچے بات کرنے سے بھی نہیں کتراتے۔ ایسے میں مجھے پچھلے دنوں صورت خان مری کا آرٹیکل، پاکستان کے ایک مشہور روزنامہ میں پڑھنے کا موقع ملا جسمیں پاکستانی ہزارہ کے بارے میں بے تکی ، غیر منتقی واقعات کا ذکر ملتا ہے کہ جنکا حقیقت سے دور دور تک کوئی تعلقّ نہیں۔ ابھی تک میرے چند دیگر دوستوں نے بھی اپنی طرف سے اخباری تحریروں کے ذریعے موصوف کے دقیانوسی خیالات کو تاویلوں اورتاریخی حوالہ جات سے غلط ثابت کرنے کی سعی کیںہیں اور ناچیز کی یہ تحریر بھی ایک کوشش ہی ہے تاکہ موصوف کے بیانات کا مدللّ اور سائنسی بنیادوں پر واضح جواب دیا جا سکے۔ قارئین کو بتاتا چلوں کہ یہ آرٹیکل پڑھتے پڑھتے، اسکا انگریزی میں لکھا گیا مضمون بھی، پاکستان کے مشہور اخبار دی ڈیلی ٹائمز میں، چھپ گیا ہوگا۔
صورت خان مری کا آرٹیکل پڑھنے کے بعد، میں کافی دیر تک سوچتا رہا کہ کیونکر پاکستانی میڈیا اور ایلیٹ کلاس، کوئی بھی غیر مصدّقہ اور بے بنیاد چیز چھاپ لیتی ہے جو موضوع کے اعتبار سے غیر مناسب ،غیر منطقی، کسی ایک شخص کی ذاتی سوچ اور مفروضوں پر مبنی ہوں۔
اس آرٹیکل سے، موصوف کالم نگار کے ذہنی مریض ہونے کا پتہ چلتا ہے جو نفرت انگیز اور غیر منتقی بنیادوں پر پاکستان میں بسنے والی ہزارہ قوم کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنا چاہتا ہے۔ موصوف لکھاری کی مبہم اور غیر واضح انداز فکر، ہزارہ قوم کی تاریخ اور اس پر ڈھائے جانے والے نسلی و مذہبی مظالم کی کمزوری کا واضح ثبوت ہے۔ عملاّ، یہ اس بات کا مظہر ہے کہ موصوف کے پاس کسی بھی موضوع پر لکھنے سے پہلے، مکمل تحقیق کرنے کی صلاحیتّ نہیں۔ اس طرح کی بے منطقی باتیں کسی حساّس موضوع کوپیشہ ورانہ انداز میں تحریر میں لانے کے لیے، اسکی قابلیت پر شکوک و شبہات کو مزید تقوّیت پہنچاتا ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر کوئی حیرانی نہیں ہوئی جسطرح موصوف نے کوئٹہ میں جاری ہزارہ قوم کی نسلی اور مذہبی ظلم و زیادتی کی منظر کشی کی ہے کیونکہ اس جیسے متعّصب اور سازشی لوگ ہمیشہ دوسروں کے آلہ کارہوتے ہیں۔
میرا تازہ آرٹیکل جو حکومتی عہدیداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے خصوصاّ کوئٹہ میں معترض کردار کے بارے میں لکھا گیا ہے جسمیں انکی چالبازیوں اور مکاریوّں سے ہزارہ قوم کو بلوچستان کے دوسرے اسٹیک ہولڈرز جیسے پشتون، بلوچ اور پنجابیوں سے لڑانے کا منفرد زاویے سے ذکر موجود ہے، سے معلوم ھوتا ہے کہ صورت خان مری جیسے لوگوں کی حماقت کے پیچھے دوسرے تخلیق کار موجودہیں جو ان جیسے لالچی ایجنٹوں کو استعمال کر کے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ عقلی طور پر یہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ بلوچستان میں آباد برادر اقوام کے درمیان نفرت کے بیج بوئے جائیں جو وہاں صدیوں سے مثالی امن سے رہ رہے ہیں۔
آئیے! موصوف کالم نگار کے اس آرٹیکل کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کرتے ہیں تاکہ اسمیں موجود مواد کے وزن کا پتہ چلایا جا سکے۔
پہلے پیرایے میں، موصوف نے ہزارہ قوم کے منگول نسل سے ہونے کے متعلقّ، شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بہت سارے معتبر ذرایع کے مطالعے سے ہزارہ قوم کی آبائی جنیات کا پتہ چلتا ہے مگر زیر نظر پیرایے میں،موصوف کے دعووں سے متعلق علم و فہم کو غلط ثابت کیا جاے گا۔ انسائیکلوپیڈیا برائے مسلم ممالک، قبائل، فرقے اور برادری کے والیم دو اور انسائیکلوپیڈیا برائے غیر ریاستی اقوام، نسل اور دنیا کے قومی گروپس کی والیم ۲ہزارہ قوم کے منگول ہونے کا فصیح وضاحت کرتا ہے۔ اسکے علاوہ، ہیرلڈ لیم کی کتاب، “چنگیز خان: تمام انسانوں کا سلطان” میں منگول قبائل کا ذکر کثرت سے موجودہے، جس میں دوہزارہ منگول قبائل، اپنے انہی ناموں کے ساتھ، وسط ایشیائی ملکوں، خصوصاّ افغانستان کے وسطی علاقوں اور ہزارہ جات میں اب بھی موجودہیں جن میں ترکمن اور تاتاری مسلم ہیں۔
دوسرے پیرایے میں، موصوف کی پست ذہنیت کے برعکس ہزارہ قوم کے طالبعلموں نے سال 2010 میں منعقد کیے گیے مقابلے کے امتحان میں 16 میں سے 11 نشستیں میرٹ پر حاصل کیں جسکی تفصیل سرکاری ویب سایٹ پر ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔ علاوہ ازیں،موصوف نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کرتے ہوئے، افغانستان کی کل آبادی بتانے سے گریز کیا ہے جو آج کے دور میں کسی بھی مصدّقہ تحریری ذرایع سے بآسانی معلوم کی جا سکتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نام نہادکالم نویس، ناپختہ رویہّ کی وجہ سے، حالیہ اعداد و شمار مکمل اعتماد سے نہیں بتا پا رہے۔
افغانستان میں، 1971 کے بعد، کوئی مردم شماری نہیں ہوئی اسطرح وہاں آباد افغانستانیوں کی صحیح تعداد کے بارے میں جاننا کافی مشکل ہے۔ مگر امریکہ کی سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے 2001 کے اندازوں کے مطابق، افغانستان کی آبادی، بائیس میلین، 68 لاکھ، 13 ہزار اور 57ہے، ان کی فیکٹ بک، فار ایسٹ اور آسٹریلیشاء 2003 کے ایڈیشن، صحفہ 79-84 تک موجود ہیں۔ بون کانفرنس 2002 کے معاہدہ کے مطابق، افغانستان کی تمام اقوام نے ہزارہ قوم کی آبادی 19-20فیصد تسلیم کرکے اس معاہدہ پر دستخط کئے ہیں اور اوپر بیان کیے گیے اعداد کی روشنی میں، افغانستان میں آبادہزارہ قوم کی آبادی 53 لاکھ، 62 ہزار، 611 بنتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ افغانستان کے 2010 کے عام انتخابات میںہزارہ قوم نے افغان قومی اسمبلی میں 54 سے زیادہ نشستیں حاصل کیں جو کسی بھی تناسب سے 25-30فیصد بنتی ہے۔
موصوف کالم نگار کوافغانستان میں آباد ہزارہ قوم کے لیے لفظ “کمیونٹی” کے استعمال سے اجتناب برتنا چاہیے تھا کیونکہ ہزارہ قوم کو دوسری بڑی آبادی اور قوتّ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ موصوف کو اس اصطلاح کے درست استعمال کے سلسلے میں اپنی فہم بڑھانے کی اشدضرورت ہے تاکہ اسے کمیونٹی اور قوم کا فرق معلوم ہو سکے۔ ہزارہ قوم کا، افغانستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے میںہمیشہ کلیدی کردار رہا ہے۔ ظاہراً ہزارستان اور دیگر ہزارہ نشین علاقوں میں، تعلیمی اداروں اور بنیادی مراکز صحت کا قیام اورلوگوں کا تعلیمی رجحان دوسروں کے لیے ناراضی کا سبب بنا ہیں۔ ان اداروں میں سہولیات کو منظمّ انداز میں چلانا اور انکی مناسب دیکھ بھال اور انکی مالی معاونت، ترقی یافتہ ممالک میں آباد ہزارہ تارکین وطن کرتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ، بامیان کو 2008 میں یواین نے افغانستان کا سب سے پرامن صوبہ کا خطاب دیا تھا اور اسوقت کابل یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے 50فیصد سے زیادہ طالبعلموں کا تعلقّ ہزارہ قوم سے ہے۔
مستند تاریخی کتابوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اسوقت کے غاصب اور جابر حکمران عبداالرحمن کے ظلم و ستم سے پہلے ہزارہ قوم کی آبادی افغانستان کی کل آبادی کا 65فیصد فیصد تھی۔ عبدالرحمن نے انگریز سامراج کی مدد سے ہزارہ قوم کومذہبی اور نسلی بنیادوں پرنشانہ بنایا جس سے انکی آبادی سمٹ کر موجودہ 25-30فیصد تک آ پہنچی۔
اسمیں کوئی شک نہیں کہ عبدالرحمن نے ہزارہ قوم کے اسیروں کو بے شمار اذیتیں دیں، انھیں قید و بند میں ڈالا گیا اور انہیں غلام بنا کر فروخت کیا گیا مگر اسکی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی کہ انھیں مرّیوں کے ہاتھوں فروخت کیا گیا ہوں (جیسا کہ موصوف کالم نگارتاریخی حقائق کو مسخ کرکے پیش کرتاہے)۔ موصوف یہ بھی فرما تا ہے کہ جو ہزارہ لڑکے، لڑکیاں، اسوقت کے بلوچوں کو فروخت کیے گیے وہ بلوچوں کے نسبت آزاد اور غیر متعصبّ رویہّ کی وجہ سے، افغانستان میں آباد ہزارہ قوم کے ساتھ روابط قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ جہاں 1880 ءمیں ہزارہ قوم، ایک جابر اور ظالم حکمران کے خلاف جنگ لڑ رہی ہوں اور انکی ایک غالب اکثریت ان جنگوں کے نتجے میں مارے جا چکے ہوں، ان سے ان کھٹن حالات میں سرحد پار رابطہ کرنا آسان ہو۔ موصوف، ائیر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر یہ سطر لکھتے وقت بھول گئے ہونگے کہ 1880 میں، جہاں نہ کوئی ٹیلیفون، نہ انٹرنیٹ اور نہ ہی کوئی دوسرا ذریعہ میسر ہو کہ جن سے سینکڑوں میل دور رابطہ قائم کرنا ممکن ہوں۔ بادی النظر یہ سہولیات بھی اس دور کے غلاموں کو میسر ہوں تو کیا کہنے کہ غلام تو بلوچ تسلطّ میں آ کر، نوابوں اور امیروں کی زندگی بسر کرنے لگے۔

بہرکیف، اس کثیر قتل و غارت گری اور جسمانی تشدّد نے ہزارہ قوم کو مجبور کیا کہ وہ افغانستان سے دوسرے ہمسایہ ممالک، ایران، تاجکستان، برطانوی انڈیا کے مختلف علاقوں، خصوصاّ کوئٹہ اور پرانی دلی کی طرف ہجرت کریں۔ صورت خان مری ک…ی ناقص معلومات اور عجلت، اس دور کے بلوچستان کے اوراس علاقے کے بلوچوں کے بارے میں، اس مضمون کے بارے میں، اسکی تحقیق اور تجزیاتی انداز فکر کے واضح فرق کی عکاس ہے۔ قطع نظر اسکے کہ مریوں کی تاریخی حیثیت اور اس علاقے (موجودہ بلوچستان) میں انکی دوسرے عرب ممالک سے ہجرت پر سیر حاصل بحث ہوسکتی ہے۔ اسکے ساتھ ساتھ، ساری دنیا جانتی ہے کہ آج کے اس ترقیّ یافتہ دور میں بھی 80فیصد سے زیادہ صورت مری کاقبیلہ خانہ بدوشوں کی زندگی گزارنے پر مجبورہے۔ ہم اپنے قارئین کو اس بات پر سوچنے کی دعوت دیتے ہیں کہ کیونکر ایسے لوگ جو آج بھی خانہ بدوشوں کی زندگی گزار رہے ہوں اور جنکا کل سرمایہ کچھ مال مویشی اور بانس سے بنے جھونپڑی ہوں وہ کیسے 1880 میں غلام خریدنے کی سکت رکھتے ہوںگے؟ ایسے لوگ جنکی 80فیصد سے زیادہ آبادی، آج کے اس متمدّن اور ترّقی یافتہ دور میں بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں، وہ کیسے 130 برس پہلے غلاموں کی خرید و فروخت میں حصہّ دار ہوئے ھونگے جسکی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
قارئین کو اس بات کا بخوبی علم ہوگا کہ موجودہ پاکستان کو1971 ءتک دو یونٹ فارمولے کے تحت چلایا جاتا تھا اور بنگلہ دیش کی آزادی کے بعد پاکستان میں چار صوبوں کا قیام، اتفاق رائے سے وجود میں آیا۔ اسکے علاوہ، موصوف، پاکستان آرمی میں ہزارہ قوم کی تعداد اور حصّہ داری پربھی معترض نظر آتا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ برٹش، پاکستانی یا کسی اور آرمی میں، کمیشنڈ آفیسرز بھرتی کرتے وقت، مروجّہ قوانین اور ضوابط پر سختی سے عملدرآمد کروایا جاتا ہے تاکہ بھرتی کے عمل میں کوئی کوتاہی نہ رہے۔ فوج جیسے ادارے میں، اقرباپروری اور کسی قسم کی سفارش کی گنجائش تقریباًنہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ، پاکستان آرمی میں کچھ سال پہلے تک، نئے امیدواروں کے ٹیسٹ/انٹرویو کے لیے دو مرحلہ جاتی طریقہ کار اپنایا جاتا تھا جن میں انٹر سروسز سلیکشن بورڈ کا ایک علاقائی دفتر، صوبائی دارالحکومت اور صدر دفتر کراچی/لاہور میں ہوا کرتا تھا جبکہ بھرتی کے خواہشمند افراد کو صوبائی دارالحکومت میں ٹیسٹ/انٹرویو پاس کرنے کے ساتھ ساتھ، دوسرے مرحلے میں پاکستان کی سطح پر آئی ایس ایس بی ،کے صدر دفتر میں مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔ ویسے بھی آرمی میں کمیشن حاصل کرنے کے لیے، قابل اور ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ، اپنی صلاحیّتوں کو منوانا ہوتا ہے۔ ہزارہ قوم میں باصلاّحیت ہونے کے علاوہ، محنت اور جاں فشانی بھی ہیں جو انہیں دوسروں سے ممتاز بناتی ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ آرمی کے ساتھ ساتھ، زندگی کے ہر شعبے میں کئی ایسے بڑے نام پیدا کیے کہ جنہوں نے نہ صرف صوبہ بلوچستان بلکہ دنیا میں پاکستان کابھی نام روشن کئے۔ اگلے پیرایے میں، حواس باختہ کالم نویس نے ایک مرتبہ پھر اپنی موٹی اورتعصب کی عینک سے تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنرل محمدموسیٰ خان ہزارہ، ایک جوان کی حیثیت سے برٹش آرمی میں بھرتی ہوا تھا اور ترقی کے منازل طے کرتے ہوئے، کمانڈر-اِن-چیف کے عہدہ تک جا پہنچا جو موجودہ دور میں، چیف آف آرمی سٹاف کے عہدہ اور وقار کے برابر ہے۔ یہ وہ پہلا اور شاید آخری بلوچستانی ہوں جواس اعلی عہدے پر فائز رہےں ۔شربت علی چنگیزی، وہ پہلا بلوچستانی آفیسر ہیں جو ائیر مارشل کے عہدہ تک جا پہنچے اور جس نے انڈیا کے خلاف لڑی جانے والی 1965 اور 1971 کی جنگوں میں شرکت کیں۔ علاوہ ازیں، سائرہ بتول وہ پہلا بلوچستانی خاتون پائلیٹ ہیں جوپاک ائرفورس میں جنگی ہواباز لڑاکا پائلٹ ہےں۔ صورت مری کی معلومات ان سطور میں، آرمی میں کمیشنڈ آفیسرز کی بھرتی کے سلسلے میں، کافی کمزور ہےں جس میں انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ آرمی میں بھرتی کا طریقہءکار اتنا آسان اور سہل ہے کہ اسمیں بلوچستان سے ہزارہ قوم، بنا دیکھے بھرتی ہو جاتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو پاک آرمی میں صورت حال مختلف ہوتی اورآج پاک آرمی میں صوبے کی نمائندگی کا حق کوئی اور ادا کررہا ہوتا۔ موصوف نے آگے چلکر مقابلے کے امتحانات یعنی سنٹرل سوپرییر سروسز (سی ایس ایس) کے بارے میں ہرزہ سرائی کی ہے جسمیں مختلف پیشہ ورانہ گروپس میں بھرتی کے لیے، فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے، ان سہ جہتی امتحانات کا انعقاد (تحریری امتحان، نفسیاتی امتحان، میڈیکل اور انٹرویو) شامل ہیں، کے بعد، بھرتی کے لیے، پاس ہونے والے امیدواروں کی میرٹ کے حساب سے فہرست بنا کر وفاقی حکومت کو بھرتی کے لیے بھیجی جاتی ہیں تاکہ خالی اسامیوں پر شفاف طریقے سے قابل اور محنتی امیدواروں کی تعیناتی عمل میں آ سکے اور 18کروڑ کے اس ملک میں سب کو اچھی طرح معلوم ہیں کہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے چیرمین سمیت، کتنے ارکان ہزارہ گزرے ہیںکہ جنکی اقرباءپروری اور بے جا سفارش سے ہزارہ جوانوں کو وفاقی سطح پر اس امتحان کے ذریعے، نشستیں مل گئی ہوں گی۔ کالم نویس کی بوسیدہ ہڈیاں اور معمر دماغ ایف پی ایس سی کے ہزارہ ارکان کے نام بتانے سے، کسی مصلحت کی وجہ سے قاصر ہے جس سے قارئین کو انکے کرتوت کا پتہ چل سکے۔جہاں تک ہزارہ آرمی آفیسرز کی سول سروسز میں تعیناتی کا تعلّق ہے، تو سب کو معلوم ہیں کہ پاکستان کے آئین کے مطابق پاک آرمی کے کمیشنڈ آفیسرز کے لیے اس شعبے میں آنے کے لیے 10فیصد کوٹہ مختص ہے اورتمام خواہشمند آرمی آفیسرزکو اس شعبہ میں آنے کے لیے تحریری امتحان اور انٹرویو پاس کرنے علاوہ، متعلّقہ نمبرز لینے ہوتے ہیں تاکہ معیار پر پورا اترا جا سکیں۔ ایسے آرمی آفیسرز جو امتحانات پاس کرنے کے بعد، سول سروسز میں جانے کے خواہشمند ہوتے ہیں انکی خدمات وفاق پاکستان کے سپرد کی جاتی ہے جو پاکستان میں کہیں بھی اسکی تعیناتی اور پوسٹنگ، مروجہ قوانین کی روشنی میں کرنے کا پابند ہوتا ہے۔ہزارہ سابق فوجی آفیسرز جو بلوچستان میں اسوقت صوبائی محکموں میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں انہیں بھی اوپر بیان کیے گیے، اسی طریقہ کار سے گزرنا پڑا ہیں جس سے اقرباءپروری کا خیال زائل ہو جاتا ہے ۔موصوف کا یہ الزام بھی بے بنیاد ہے کہ ان ہزارہ بیوروکریٹس نے بلوچستان میں دوسرے ہزارہ جوانوں کو بھرتی کروانے میں کوئی کردار ادا کیا ہوں کیونکہ حکومتی وزارتوں اور اداروں میں کسی خالی اسامی کو پر کرنے کے لیے، تحریری امتحان اور انٹرویو کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے جو مجاز حکام کی نگرانی میں منعقد کرایے جاتے ہیں جو، غیر ہزارہ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہزارہ اس صوبہ کے واحد ایسے اسٹیک ھولڈز ہیں جو گذشتہ تین دہائیوں سے وفاقی اور صوبائی حکومت سے اپیل کرتی آ رہے ہیں کہ خالی آسامیاں پر کرنے کے لیے صوبائی کوٹہ سسٹم ختم کر کے، میرٹ کی بنیاد پر یہ آسامیا ں پر کیے جائے تاکہ جو قابل اور محنتی ہیں وہ آگے آ سکیں۔ ہزارہ قوم کا یہ مطالبہ، صوبہ کے تمام کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے بھی ہیں تاکہ میرٹ پر طلباءآگے بڑھ سکیں لیکن ان مطالبات سے حکومت کے کانوں پر جو تک نہیں رینگتی۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ میرٹ پر پُرکی جانی والی اسامیوں میں ہمارے بھائی کم ترین سیٹیں حاصل کر سکیں جبکہ نسبتاّ وہ تعلیمی اداروں اور دیگر محکموں میں صوبائی کوٹہ ہونے کی وجہ نے آسانی سے آ جاتے ہیں۔
صورت خان مری کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اگر وفاقی اور صوبائی محکموں میں ہزارہ کام نہ کر رہے ہوتے تو یہ اپنے پڑھے لکھے بابو طبقہ سے سرکاری خط و کتابت بھی براہوی میں کروا رہے ہوتے۔ یہ اس صوبہ کے ساتھ، سراسر ناانصافی ہے کہ بمشکل پڑھے لکھے لوگ صوبہ میں اعلی سرکاری عہدوں پر براجمان ہیں جو خالصتاّ سفارش اور سیاسی اثر رسوخ کی بناءپر ان محکموں میں مالی بے قاعدگیاں کرتے نظر آتے ہیں۔جنرل موسی خان ہزارہ، ایک بااصول اور ایماندار شخص تھے اور ان پر اپنے اختیارات کے غلط استعمال کا الزام لگانا بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں۔ سرکاری دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے وہ ساری زمینیں، جو انھیں انکے ملکی خدمات کے سلسلے میں دیے گیے تھے، اپنی وفات سے پہلے حکومت کو واپس کر چکے تھے۔ موصوف کا یہ کہنا کہ جنرل موسی خان ہزارہ، مغربی پاکستان کے گورنر کی حیثیت سے، اپنے اختیارات استعمال کر کے ایک آرڈنینس کے ذریعے، ہزارہ قوم کو اس ملک کا شہری بنایا، جھوٹ ،من گھڑت اور بے بنیاد پروپیگنڈا ہے۔ دراصل ہزارہ قوم کو 1954 میں، پاکستان میں آباد دوسرے تسلیم شدہ قبائل کی طرح، وفاق پاکستان نے لوکل قرار دیا تھا۔ جبکہ جنرل موسی خان ہزارہ، 1967-1969 مغربی پاکستان کے گورنر کے عہدے پر فائز رہے۔ اگر ایک لمحہ کے لیے، موصوف کی یہ بات صحیح مان بھی لیا جائے کہ ہزارہ قوم 1967-1969 کے درمیان، ایک آرڈنینس کے ذریعے، اس ملک کے شہری بناے گیے تو ان ہزارہ فوجی آفیسرز کی کیا حیثیت تھی جو اس دور سے کئی دہائی پہلے آرمی میں بھرتی ہوئے تھے؟ کیا پاکستان میں کوئی قانون نہیں تھا کہ غیر پاکستانی کو فوج میں بھرتی ہونے سے روک پاتا؟ دوسری بات یہ کہ اس آرڈنینس کی کیا قانونی حیثیت تھی؟ کیا ایک گورنر کو اتنے اختیارات حاصل ہے کہ وہ محض ایک آرڈنینس سے پوری قوم کو شہری اور لوکل قرار دے دیں جسکی اہم ذمہ داری، صوبہ میں وفاق کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے، صوبائی معاملات کی نگرانی اور وفاق اور صوبہ کے درمیان رابطہ کار کی سی ہے؟

اس پیرایے میں، موصوف کالم نگار نے، ایران کو ہزارہ قوم کا خیر خواہ اورمالی سرپرست بنانے کی پوری کوشش کی ہے جو اسکے دوسرے نقطوں کی طرح کمزور اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ سب سے پہلے ایران، ایک آزاد اور خودمختار…، اسلامی ریاست ہے اور جسکی خارجہ پالیساں اسکے قومی مفادات کے مطابق بنتے ہیں۔ ان سطور کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صورت خان مری کے تعصبّ اور جابنداری کی اہم وجہ اسکی نامناسب تربیت اور ناقص تعلیم ہیں جسکی جھلک، بغیر تحقیق اور عجلت میں لکھی گئی تحریر میں واضح نظر آتی ہے ۔ مجھے اپنے قارئین کو بتانا چاہیے کہ جو ہزارہ تارکین وطن 1880 کے ظلم و ستم سے مجبور ھوکر، افغانستان سے ایران ہجرت کر گئے تھے وہ آج بھی بدترین کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ایران میں 130 سال سے زائد عرصہ گزارنے کے باوجود، انہیں غیر قانونی تصوّر کیا جاتا ہے اور انہیں میٹرک سے اوپر تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں۔ انکے بنیادی انسانی حقوق پامال ہو رہے ہیں اور انہیں معمولی اجرت پرجسمانی مشقّت کرنا پڑتا ہیں۔ ایسے ہزارہ جو طالبان کے ظلم و ستم اور بےروزگاری سے تنگ آ کر، ایران ہجرت کر گیے، انہیں مختلف قسم کی انسانی حقوق کی پامالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں، بھّٹے اور کارخانوں میں کام کرنے والے نسل در نسل مزدوروں کی استحصال کی شکایات کافی عام ہے۔
یہ چیزیں، تحریر میں لانے سے پہلے اور صورتحال کا آنکھوں دیکھا حال بیان کرنے کے لیے، صورت خان مری کو اپنے ہجرے سے نکل کر ایران کا دورہ کرنا چاہیے تھا تاکہ اس پر حقیقت آشکار ہو جاتی مگر نہ جانے اپنے قلم کی سیاہی کو کتنا میں بیچا ھوگا کیا خبر؟
سوچنے والی بات یہ ہے کہ ایران کیونکر ہزارہ قوم کو اس خطہّ میں مالی امداد پر راضی ہوگا جبکہ ہزارہ قوم کا کوئی بارڈر بھی نہیں جس سے انکے مقاصد پورے ہوتے نظر آئے۔ اگر یہاں سے پورے پاکستان میں شیعہ عقاید پھیلانے والی بات ہوتی، تو شاید ایران، کوئٹہ کی بجائے، کسی بڑے شہر سے یہ معاملہ سرانجام دیتا جسمیں کامیابی کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔
ان سب کے برعکس ساری دنیا کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران، امریکہ اور اسکے اتحادیوں کے خلاف طالبان کی مالی اور فوجی امداد کرتا رہا ہے اور اسکے اینٹی ایرکرافٹ ہتھیار، جنوبی وزیرستان میں ڈرون حملہ میںکئی مرتبہ، تباہ کیے جا چکے ہیں۔ اسکے علاوہ، افغانستان میں متعدد بارسڑکوں کے کنارے نصب کیے جانے والے بارود اور بم ایرانی ساختہ تھے جنکی آزاد زرایع نے کئی بار تصدیق بھی کی ہے۔ یہ بات بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ 9/11 کے بعد، القاعدہ کے بانی ارکان اور اسامہ بن لادن کے اہل خانہ ایران چلے گئے تھے جوطالبان اور حقانی نیٹ ورک کے ساتھ، مختلف بارگیننگ میں بطورہتھیار استعمال کیے جا چکے ہیں جنمیں 2008 میں، پشاور سے اغواء کئے گئے ایرانی قونصل گری کی اتاشی کی رہائی اور حال ہی میں اسامہ بن لادن کی بیٹی کی ایران میں سعودی سفارت خانہ میں حوالگی قابل ذکرہے۔ آپ اس سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ایران کا اصل مذہب اسکے قومی مفادات اور ایرانیوں کی سلامتی پر مبنی ہیں جو ایران، اپنی مفادات کی خاطر طالبان اور اسکی ذیلی تنظیموں کو سپورٹ کرتا ہوں کیا وہ کبھی ہزارہ قوم کو مالی یا اخلاقی مدد کرے گا؟ وہ طالبان، جنہوں نے 1998 میں، یکاولنگ، مزار شریف اور بامیان میں 10000 سے زائد بے گناہ اور معصوم ہزارہ لوگوں کا قتل عام کیا، جو سب اہل تشیع تھے، کیونکر ایران کا دوست ہو سکتا ہے؟
اس سے ہماری بحث دوسری طرف چلی جائے گی۔ میرا مقصد، ایران کا ماضی اور حال کی داخلی اور خارجی پالیسوں کا قارئین کے لیے پیش کرنا تھا تاکہ وہ ان چیزوں کی جانچ بہتر انداز میں کر سکیں۔
موصوف کے سطوروں میں بظاہر کوئی ربط نہیں کیونکہ اس نے آگے جاکر ہزارہ قوم کو سخت جان اور محنتی کہا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہزارہ قوم میں شرح تعلیم 90فیصد سے زیادہ ہے اور ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ڈگری کی سطح تک تعلیم حاصل کی ہیں۔
جو جائیدادیں، زمینیں اور کاروبار کوئٹہ میں آبادہزارہ قوم کے پاس آج ہیں وہ سب ان کی سخت محنت اور مشقت کی کمائی ہوئی ہیں۔
موصوف آگے جاکر لکھتے ہیں کہ کوئٹہ شہر کے ہزارہ آبادی والے علاقے نوگو ایریاز بنے ہوئے ہیں مگرسب کو معلوم ہے کہ پورا کوئٹہ شہر اسوقت انتہائی خوف اور سراسمیگی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔ اس سے بے چینی اور بے اعتمادی کی فضاءبنی ھوئی ہے۔ کوئٹہ شہر کے باسی اس حد تک مجبور کیے جاچکے ہیں کہ انسانی جان کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے احتیاطی تدابیر کرنے پڑ رہے ہیں۔ اس نازک دور میں، پوری ہزارہ قوم محاصرہ میں ہیں جنکو اپنے آپ کو بچانے کے لیے داخلی سطح پر انتظامات کرنے پڑے ہیں۔
یہ بات عیاں ہے کہ اس کالم کے توسطّ سے، جیرہ خور کالم نگار نے بہت ہوشیاری سے ہزارہ قوم کو پشون، بلوچ اور پنجابی سے لڑانے کی کوشش کی ہے۔ ہزارہ قوم نے ہر قسم کے دہشت گردی اور مذہبی انتہاءپسندی کی ہمیشہ مذّمت کی ہیں اورہزارہ کبھی بھی کسی پیش امام کے قتل میں ملوثّ نہیں رہیں نہ ہی ہم نے کبھی فرقہ ورانہ تشدّد میں حصہّ لینے میں دلچسپی دکھائی ہیں۔
قارئین کی معلومات کے لیے بتاتا چلو ںکہ مہرآباد میں کئی سال پہلے تک 500 سے زیادہ، بلوچ اور پشتون خاندان پشتوں سے وہاں رہ رہے تھے جبکہ ہزارہ قوم کی ٹارگٹ کلنگز 1999 میں شروع ہوئی تھی، مگر تاریخ گواہ ہے کہ آج تک، علاقے میں موجود کسی غیر ہزارہ کو تکلیف یا ذک نہیں پہنچائی گئی۔ حالانکہ ہزارہ قوم پر بدترین مظالم ڈھائے گئے۔ہم نے ایک دن میں مذہبی دہشت گردی کا شکار ھوئے 70 لوگوں کو بھی دفن کیا ہے ان سب کے باوجود ہزارہ قوم کے ہمسایے ہر قسم کے تشدّد سے محفوظ رہیں۔ ہزارہ قوم، بشمول علماء دین کے، ہمیشہ کوئٹہ شہرمیں غیر ہزارہ پررونما ہونے والے پرتشدّد واقعات اور دیگر فرقوں کے علماءدین اور پیش امام پر ہونے والے حملوں کی بھرپور مذّمت کرتے ھوئے، انہیں صوبہ میں آباد قوموں کے لیے سازش قرار دیا ہے۔

(Source I)

(Source II)

(Source III)

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: